18 برس فرانسیسی ایئرپورٹ پر رہنے والے ایرانی شخص وفات پا گئے۔۔۔ آخر اپنے گھر ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ایسا کیوں کیا!!

سنہ 2004 میں ان کی زندگی پر ’دی ٹرمینل‘ نامی فلم بھی بنائی گئی تھی۔ اُنھیں بالآخر فرانس میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی مگر وہ کچھ عرصہ قبل ایئرپورٹ واپس لوٹ آئے تھے۔

مہران کریمی ناصری جو کہ 1945 میں ایران میں پیدا ہوئے، وہ اپنی والدہ کی تلاش کے لیے پہلی بار یورپ آئے۔ کئی سال وہ بیلجیئم میں رہے۔ ان کو برطانیہ، جرمنی

اور نیدرلینڈ نے اس لئے ملک سے نکالا کیونکہ ان کے امیگریشن کاغذات درست نہ تھے۔ بعد ازاں انہوں نے فرانس جا کر ایئرپورٹ ٹرمینل کے ایک حصے کو اپنا گھر بنا لیا۔

وہ ایئرپورٹ ٹرمینل کے ایک بینچ پر رہتے تھے اور پاس پڑی ٹرالیوں میں ان کی ضرورت کا سامان پڑا رہتا تھا۔ انہوں نے اپنی زیادہ زندگی اخبارات اور کتابیں پڑھ کر گزاری۔ ایک ڈائری میں وہ اپنی زندگی کے تجربات تحریر کرتے رہتے تھے۔

ان کی زندگی کی کہانی کو بین الاقوامی میڈیا پر بھی بہت پذیرائی ملی۔

ہالی ووڈ کے ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ نے اپنی فلم ٹرمینل میں ان کی کہانی کو فلمایا۔ اس فلم میں ٹام

ہینکس نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم کی ریلیز کے بعد ناصری کی شہرت میں اضافہ ہوگیا اور کئی اخبارات و جرائد ان کا انٹرویو لینے کے لیے آتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک وقت پر ناصری دن میں چھ انٹرویو بھی دیتے رہے۔

ناصری نے خود کو سر ایلفرڈ کہلانا شروع کیا۔

فرانس کی طرف سے ان کو 1999 میں پناہ گزین کی حیثیت سے رہنے کی اجازت مل چکی تھی لیکن پھر

بھی وہ مزید سات سال یعنی 2006 تک ایئرپورٹ پر ہی رہے۔ بیمار ہوجانے کے باعث ان کو ہسپتال لے جانا پڑا اور پھر ہسپتال سے وہ ایک ہاسٹل میں شفٹ ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے باقی ایام گزارے۔

ناصری نے اپنی زندگی کے تقریبا 18 سال فرانس کے ایئرپورٹ پر گزارے۔ وفات سے کچھ ہفتے قبل وہ ہاسٹل سے دوبارہ ایئرپورٹ پر آگئے تھے اور اپنی موت تک

وہیں رہے۔ یہ بات ائرپورٹ کے اہلکار سے معلوم ہوئی ہے جس کا کہنا تھا کہ وفات کے وقت بھی ان کے پاس کئی ہزار یورو موجود تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.